AL_MALIK

AL _MALIk

A name included in الملک اسماء الحسننی.The king does not object to anyone who wishes and actions.
The meaning .

The word '' Mulk '' is in two ways, and it is said to be someone else's ruler. Second, the power and ability of governance are called.Real king.

Own the owner of all the items and the complete disposer or the person whom he wishes, honor (honor) and keep the person whom He wills.And he is clean from the weaknesses.
 
This is a disgrace for him. He is ultimately respected or he who gives power and deposits, can not even imagine being an obligation to be deprived of it, namely, to be deprived and to be deprived of There is a person with respect to all that is honorable, and he is honorable, and that rule is al-Maltabha, the kingdom is the kingdom, and the kingdom is its creation, the sovereignty and the government belongs to it. His rule is eternal, which is not a decline.Mentioned in the Qur'an .

The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) came 4 times.
     فَتَعَالَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ 

 Verse 116So Allah is High, He is the True King. Apart from this there is no true king. There is no god other than this. He is the Lord of Throne creams. And Allah said,
 قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاء وَتَنزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاء وَتُعِزُّ مَن تَشَاء وَتُذِلُّ مَن تَشَاء بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَىَ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

Verse 26 - All-Imran

 O Muhammad SAW - You say: O Allah, you are the Emperor.Allah Almighty said:

 
Competitive analyst

 Verse 55 

They will be in the right seat with a mighty King.Mentioned in HadithAbu Hurayrah is said that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said that heaven descending towards the world every night and night, when the beginning of the night passes, then Allah says, "Who am I the King, who is praying to me And I accept the prayer, who is asking me and I give it, who is the one who pleases forgiveness for me, and I forgive him. Allah keeps the same way till it becomes light in the morning. .Allah Almighty enhances His commandments in His kingdom. He is the master of all things in it. He is the owner of all things in his commandments, and in the matter of the laws and punishments. Universal or universal blow.The owner of all is the creatures of his slave and his servants. They are all cautious.When a moving thing moves, it moves with its intention and its intentions, and when it is a matter of goodness, it is good for its knowledge and purpose.On the Day of Judgment, the kingdom of Allah will become clear to everyone and all creatures will be rewarded.


الملک

الملک اسماء الحسنی میں شامل ایک نام۔بادشاہ جو چاہے کرے اور اس کے فعل پر کسی کو مجال اعتراض نہ ہو۔


معانی

الملک کا لفظ دو طرح پر ہوتا ہے عملا کسی کا متولی اور حکمران ہونے کو کہتے ہیں ۔ دوم حکمرانی کی قوت اور قابلیت کے پائے جانے کو کہتے ہیں ۔
حقیقی بادشاہ

تمام اشیاء کا مالک اور ان میں مکمل تصرف فرمانے والا یا وہ ذات کریم جس کو چاہے معزز کرے (عزت عطافرمائے) اور جسے چاہے پست و ذلیل رکھے
(رسوا کرے) اور وہ پستیوں (ذلتوں ) سے پاک ہے۔
 یعنی ذلت اس کے لئے محال ہے وہ لامتناہی عزت والا ہے یا وہی ہے جو اقتدار عطا کرتا ہے اور معزول کردیتا ہے اور اس کے لئے معزولی وتولیت تصور بھی نہیں کی جاسکتی یعنی اس کا معزول ہونا اور کسی کی زیرنگیں ہونا محال ہے یا وہ عزتوں کے ساتھ فرد ہے یعنی سب عزت اسی ہی کے لئے ہے اور وہ معزز یکتا ہے اور وہی حاکم علی الاطلاق ہے بادشاہی والا ہے اور بادشاہی اس کی تخلیق ہے یعنی حاکم رہی ہے اور حکومت اسی کی ہے یا قدرت والا ہے۔ اس کی حکومت و سلطنت دائمی ہے جسے زوال نہیں ۔
قرآن میں ذکر

قرآن میں الملک 4 مرتبہ آیا ہےاللہ تعالیٰ نے فرمایا:

     فَتَعَالَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ
آیت  ۔ 116

پس اللہ تعالیٰ بلند و برتر ہے وہ سچا بادشاہ ہے۔ اس کے علاوہ کوئی سچا بادشاہ نہیں۔ اس کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں۔ وہ عرش کریم کا رب ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا-

     قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاء وَتَنزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاء وَتُعِزُّ مَن تَشَاء وَتُذِلُّ مَن تَشَاء بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَىَ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
آیت - 26 - آل عمران

اے محمد صلّی اللہ  - آپ کہہ دیں :اے اللہ تو ہی شہنشاہ ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِندَ مَلِيكٍ مُّقْتَدِرٍ
آیت ۔ 55

وہ (روز قیامت) قدرت والے بادشاہ کے پاس سچی نشست گاہ میں ہوں گے۔
حدیث میں ذکر
ابوہریرہ سےروایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تبارک وتعالی ہر رات آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے جس وقت رات کا ابتدائی حصہ گزر جاتا ہے تو اللہ فرماتا ہے میں بادشاہ ہوں کون ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا قبول کروں، کون ہے جو مجھ سے سوال کرے اور میں اسے عطا کروں، کون ہے جو مجھ سے مغفرت مانگے اور میں اسے معاف کر دوں، اللہ تعالیٰ اسی طرح فرماتا رہتا ہے یہاں تک کہ صبح روشن ہوجاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنی سلطنت میں اپنے احکام نافذ کرتا ہے۔ وہی اس میں تصرف مطلق کا مالک و مختار ہے وہ اپنی مخلوقات اپنے احکامات، اور جزاء و سزاء کے معاملے میں ہر طرح کے تصرف کا مالک ہے۔ عالم بالا ہو یا عالم اسفل۔
سب کا مالک وہی ہے تمام مخلوقات اس کی غلام اور ا س کی نوکر ہیں۔ وہ سب اس کے محتاج ہیں۔
جب کوئی حرکت کرنے والی چیز حرکت کرتی ہے تو ا س کے ارادے اور اس کی مشیئت کے ساتھ ہی حرکت کرتے ہیں اور جب کوئی چیز ساکن ہوتی ہے تو اس کے علم اور ارادے سے ہی ساکن ہوتی ہے۔

قیامت کے دن اللہ سبحانہ کی بادشاہت سب کے سامنے واضح ہو جائے گی اور تمام مخلوقات اس کی معترف ہو جائیں گی۔

1 comment: